جمہوریت، جمہوریت، جمہوریت

شیراز خاکوانی

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ترقی کے لئے جمہوریت ضروری ہے وہ ذرا یہ بتا دیں کہ پھر چین نے کیسے اتنی ترقی کر لی؟ وہ تو دنیا کی دوسرے نمبر پر سب سے بڑی معیشت ھے۔ وہاں تو کوئ جمہوریت نہیں۔ وہاں تو سنگل پارٹی سسٹم رائج ہے۔ ایک پارٹی کے چند ہزار بندے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون صدر ہو گا اور کون نائب صدر یا وزیرِاعظم۔ ذرا یاد کر کے بتائیے کہ کب آپ نے یہ سنا تھا کہ چین میں آج اتنے کروڑ لوگوں نے ووٹ ڈالے؟ عام عوام کو تو وہاں ووٹ ڈالنے کی اجازت ہی نہیں۔ اور ظاہر ھے فوج بھی اس سارے نظام کی حمایت کرتی ھے ورنہ اتنے لمبے سے یہ سلسلہ نہ چل رہا ھوتا۔ دبئ کی معیشت بھی بہترین چل رہی ھے۔ ساری دنیا سے لوگ وہاں آتے ہیں، رہتے ہیں، پیسہ انویسٹ کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں۔ وہاں کونسی جمہوریت ھے؟ شارجہ میں؟ قطر میں؟ پتہ نہیں یہ لوگ کیسے زندہ ہیں جمہوریت کے بغیر؟ ہمیں اپنے خرچے پہ ان لوگوں کو یہاں بلانا چاہئے تاکہ وہ جمہوریت کے ثمرات دیکھ سکیں۔
میں تو امریکہ اور بھارت کی جمہوریت کو بھی جمہوریت نہیں مانتا۔ امریکہ کو اسکا صدر کوئ عوامی خواہشات کے مطابق نہیں چلاتا، امریکہ کو وال اسٹریٹ چلاتی ہے۔ جب 2008 میں صدر اوباما کا پہلی دفعہ انتخاب ھو رہا تھا تو میں امریکہ میں پڑھ رہا تھا۔ وہ ساری انتخابی کمپین میں نے خود دیکھی ھے۔ چینج چینج (تبدیلی) کے نعرے سن سن کے کان پک گئے تھے۔ اب تو ان کی دوسری مدتِ صدارت بھی ختم ہونے والی ھے تو کیا تبدیلی آئ؟ چونکہ وہاں کے سرمایہ دار نظام میں کوئ تبدیلی نہیں چاہتے تھے، تو کوئ تبدیلی آئ بھی نہیں۔ اوبامہ نے پہلی دفعہ صدر بننے کے بعد غالبا” جو تیسرا حکم (ایگزیکٹو آرڈر) جاری کیا وہ یہ تھا کہ گونتانامو بے کی جیل بند کر دی جائے گی۔ کیا وہ بند ہوئ؟ چونکہ ان کی فوج نہیں چاہتی تھی کہ یہ جیل بند ھو تو اوبامہ جیسے مقبول صدر کو بھی اپنی بات سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ وہاں کے کچھ اچھے رائٹرز کی ایک دو کتابیں پڑھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کیا طاقت ھے اور امریکی صدر کی کیا اوقات ھے۔ اسی طرح بھارت کی ترقی میں بھی کم از کم مجھے جمہوریت کا کوئ عمل دخل نظر نہیں آیا۔ عالمی سرمایہ داروں کو کم قیمت بلکہ بے قیمت مزدور چاہیے تھے جو انڈیا اور چین میں وافر ہیں۔ اسی لیئے وہاں سرمایہ کاری ھوئ اور انڈیا کی مجموعی قومی پیداوار اوپر چلی گئی۔ اس سے جہاں آبادی کا کچھ حصہ خوشحال ہوا، وہیں پہ لاکھوں کسانوں نے خودکشی بھی کی۔ ہزاروں لوگوں پر بغیر ان کو بتائے مختلف دواوٴں کے تجربات کئے گئے جس میں ان کی جان گئی یا وہ ہمیشہ کے لئے معذور ہوئے۔ کروڑوں لوگ ایک وقت کے کھانے کو ترستے ہیں۔ انڈیا کی ظاہرا” جو بھی ترقی نظر آتی ہے اس کی وجہ بے محار کیپیٹل ازم (سرمایہ دارانہ نظام) ہے نہ کہ جمہوریت۔ اسی طرح یورپ میں امن اور خوشحالی کی وجہ جمہوریت سے زیادہ یہ ہے کہ دو بڑی جنگیں لڑنے کے بعد ان ملکوں کے اتنے ٹکڑے ھو گئے کہ ان میں لڑنے کی سکت ہی نہ رہی۔ دوسرا ان لوگوں نے مذہب سے دوری اختیار کی جس کی وجہ سے شیعہ سنی جیسے مسائل نہ رہے۔ اور تیسرا چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بٹ جانے کی وجہ سے ہر ایک ملک میں کم و بیش ایک قوم آباد ہے۔ اس طرح ہماری طرز کے پنجابی سندھی کے جھگڑے بھی وہاں نہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں سازگار حالات پہلے پیدا ھوئے اور جمہوریت کے ڈھکوسلے بعد میں آئے۔
ہمارے ہاں بھی نوازشریف کا کوئ انوکھا وژن نہیں ہے۔ یہ بھی وہی بے محار عالمی سرمایہ دارانہ نظام چلا رہے ہیں۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور مشرف بھی یہی نظام چلا رہے تھے۔ بلکہ مشرف کے دور میں تو یہ نظام زیادہ بہتر چل رہا تھا۔ معیشت کی جانچ کا کوئ پیمانہ اٹھا لیں اور بتا دیں اگر وہ جمہوریت کے کسی بھی دور سے بہتر نہ ھو۔ الٹا نوازشریف کی پالیسیاں تو کافی حد تک احمقانہ ہیں۔ مثلا” جب ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی اور دہشت گردی ھو تو آپ 50 ارب روپیہ ایک بس چلانے کے لیئے رکھ لیں۔ اور 800 ارب روپیہ ایک موٹر وے کے لیئے رکھ لیں جس کی عوامی سطح پہ ڈیمانڈ میں نے تو کبھی نہیں سنی۔ جس ملک میں پینے کا صاف پانی اور کروڑوں بچوں کو بنیادی تعلیم کی سہولتیں نہ ھوں وہاں آپ 100 ارب سے زیادہ لیپ ٹاپ سکیم کے لیئے رکھ دیں۔ پاکستان میں بجلی کی ترسیل کا نظام اس قابل نہیں کہ 10، 12 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی کا بوجھ اٹھا سکے۔ اس کو ٹھیک کرنے کے لیئے کم و بیش 800 ارب روپے کی ضرورت ھے۔ وہ بجٹ میں مجھے تو کہیں نظر نہیں آئے۔ شائد مستقبل میں بجلی کی وائرلیس ترسیل کا کوئ سبب نکل آئے۔ اس حکومت کی کرپشن اور بدعنوانی پیپلز پارٹی سے کسی صورت کم نہیں بلکہ شائد زیادہ ہی ھو۔ سادہ لفظوں میں اگر زرداری ایک ڈاکو ہے تو نوازشریف ایک وائٹ کالر کرمنل ہے۔ ڈاکو کو پکڑنا اور سزا دلوانہ آسان ھوتا ھے جبکہ وائٹ کالر جرائم میں جرم کا کھوج لگانا اور سزا دلوانا امریکہ جیسے ملکوں میں بھی آسان نہیں ھوتا۔ کیونکہ یہ جرائم قانون کو توڑ مروڑ کے اور قانون میں سقم نکال کے کیئے جاتے ہیں۔ مثلا جب آپ کی شوگر ملوں کے لیئے مشینری آنی ھو تو ڈیوٹی کچھ اور ھو اور جب کسی اور کے لیئے آنی ھو تو کچھ اور۔ جب برائلر مرغی کا بچہ آپکے پولٹری فارمز کے لیئے آنا ھو تو ریٹ کم ھو جائے اور جب آپکے پولٹری فارمز بھر چکیں تو ریٹ پھر بڑھ جائے۔ جب آپ نے اپنے کالے دھن کو سفید کرنا ھو تو اجازت دے دیجئے کہ اسٹاک مارکیٹ میں جو بھی پیسہ لگائے گا اس پہ پوچھ گچھ نہیں ھو گی اور اس طرح اپنا پیسہ سفید کر لیجیئے۔ اپنے دودھ کے کاروبار کے لیئےانھوں نے ھلہ دودھ والوں کا جو حشر کیا وہ دنیا کے سامنے ہے۔ ان کے کرپشن کے کیس آئے دن سامنے آتے ہیں۔ ان کے مشہور نہ ھونے کی وجہ ایک بلیک میلر بابا جی اور ایک بدعنوان اور حد سے زیادہ خود پرست چیف جسٹس کی کمی ھے ورنہ سکینڈل تو ایک سے بڑھ کے ایک ھے۔ یقین جانیئے کہ ماڈل ٹاؤن والا واقعہ اگر پیپلز پارٹی کے دور میں ھوا ھوتا تو یہی عدلیہ زرداری یا گیلانی کو پھانسی چڑہا چکی ھوتی۔ لیکن شریفوں کو کبھی گرم ھوا ہماری عدالتوں سے تو نہیں لگنے لگی۔ لال مسجد والے تو ہتھیار بند ھو کے لڑ رہے تھے۔ انھوں نے لوگوں کو اغوا کیا اور سرکاری عمارت کو آگ لگائ۔ ان لوگوں کو بارہ دن تک باہر نکلنے کا موقع دیا گیا۔ اس کے بعد ایک فوجی آپریشن ھوا جس میں ان لوگوں نے ایس ایس جی کے 8 جوان شہید کر دیئے۔ اگر وہ اتنے ہی نہتے اور معصوم تھے تو اتنے فوجی کیسے شہید ھوئے؟ پھر بھی آج تک مشرف مقدمہ بھگت رہا ھے۔ لیکن جن لوگوں نے رات کو پر امن سوئے ھوئے لوگوں پہ دھاوا بولا اور پتھروں کے جواب میں سیدھی گولیاں برسائیں ان کو کوئ پوچھنے والا نہیں۔
نواز شریف بلکہ کسی بھی سربراہِ مملکت کا کاروبار کرنا ایک بہت بڑی خامی اور خرابی ہے۔ علامہ طاہر اشرفی جو آج کل بڑے زور و شور سے درباری مولوی ھونے کا کردار نباہ رہے ہیں کیا انھوں نے نوازشریف کو وہ واقعہ نہیں سنایا کہ جب حضرت ابو بکرؓ خلیفہ مقرر ہوئے تو حسبِ معمول اگلے دن کاروبار کے لیئے اپنی دکان کی طرف چل دیئے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا ابو بکرؓ کہاں چلے تو اس پر انہوں نے بتایا کہ اپنی دکان پہ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ابو بکرؓ اگر خلیفہ خود کاروبار کرنے لگے گا تو پھر بازار میں خلیفہ کے علاوہ کس کی دکان چلے گی۔ اسکے بعد کاروبار چھڑوا کر بیت المال سے خلیفہ کا وظیفہ مقرر کیا گیا۔ یہاں تو نوازشریف بغیر کسی شرم اور لحاظ کے بیرونِ ملک خود بھی ذاتی کاروباری دورے کرتے ہیں اور ساتھ میں اپنے بچوں کو بھی لے جاتے ہیں۔ جن ملکوں کی جمہوریت کی مثالیں ھم دیتے نہیں تھکتے کیا ان میں سے کوئ ایک بھی لیڈر اپنا کاروبار چلاتا ھے؟ جن لوگوں کا سب کچھ باہر ھو اور انھیں ڈر ھو کہ کہیں یہ سب کچھ چھن نہ جائے وہ کیا آزاد خارجہ پالیسی چلا سکتے ہیں؟
ایک اور بات جو میں نے کاشف عباسی سے سنی لیکن کچھ اور انٹیلکچیول دوست بھی کہتے ہیں وہ یہ کہ دیکھیں جی پیپلز پارٹی نے ڈلیور نہیں کیا تو عوام نے انہیں اٹھا کے باہر پھینک دیا۔ مجھے تو اس بات کی منطق کبھی سمجھ نہیں آئ۔ الیکشن نہیں جیتے تو کیا ھوا۔ زرداری کی سانس بند ھو گئ یا ساری پارٹی کو کسی نے گولی مار دی؟ پانچ سال خوب خوب لوٹنے کے بعد اب اتنا حق تو بنتا ھے کہ بندہ کچھ چھٹیاں لے کر ذرا عیش عشرت کے چند لمحات ہی گزار لے۔ ان لوگوں کو خدا پہ ایمان ھو نہ ھو لیکن پاکستانی قوم کی کم عقلی پر قامل ایمان ھے جس نے دونوں کو تین تین دفعہ موقع دیا اور ہر طرح کی تکلیف اٹھانے کے بعد انشا۶اللہ پھر موقع دے گی۔ یاد رہے کہ وہ قائم علی شاہ آج بھی وزیرِاعلٰی ہے جس کے ھوتے کراچی نے ایک لمحہ سکون نہیں دیکھا۔ جس کے ھوتے سینکڑوں بچے بھوک پیاس سے بلک بلک کر مر گئے۔ دراصل ایسی باتیں بندہ اس وقت کرتا ھے جب وہ کسی اور معاشرے کی بات سے متاثر ہو کے بغیر سوچے سمجھے اپنے معاشرے پہ فٹ کرنے کی کوشش کرتا ھے۔ جب امریکی ھمیں یہ بتاتے ھیں کہ ان سیاست دانوں نے اگر ڈلیور نہ کیا ان کی سزا یہ ھے کہ لوگ انہیں دوبارہ منتخب نہیں کریں گے تو ھم فورا” اٰمنّا و صدقنا کہتے ھوئے اپنے ملک میں بھی وہی بات فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے معاشرے میں حالات مختلف ہیں۔ امریکی معاشرہ عمومی طور پر دائیں بازو اور بائیں بازو میں بٹا ھوا ھے۔ ریپبلیکن پارٹی دائیں بازو (یعنی قدامت پرست اور مذہبی لوگوں) کی اور ڈیموکریٹس بائیں بازو (یعنی آذاد خیال اور لادین لوگوں) کی ترجمانی کرتی ھے۔ وھاں جب ڈیموکریٹس کا صدر آتا ھے تو بعض سوشل ایشوز پر (جیسے لادینیت یا عورتوں کو ابارشن کا حق یا ھم جنس پرست لوگوں کے حقوق یا غیر قانونی طور پر قیام پذیر تارکینِ وطن لوگوں کے حقوق وغیرہ) پر ملک کو ایک طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے جو دائیں بازو کے لوگوں کو ہرگز قبول نہیں۔ دوسری طرف جب ریپبلیکن پارٹی بر سرِ اقتدار آتی ھے تو وہ قوم کو بالکل الٹ طرف لے کے جانے کی کوشش کرتی ھے جو بائیں بازو کو قبول نہیں۔ اس لئے ہر دو قسم کے لوگ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ان کے نمائندے اقتدار میں آئیں تاکہ ملک کی سمت ان کی پسند کے مطابق ھو۔ ھمارے ہاں یہ صورتحال نہیں ھے۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں ہی کم و بیش سنٹر کی پارٹیاں ہیں، ایک معمولی سی دائیں طرف تو دوسری معمولی سی بائیں طرف۔ اقتدار میں نہ ھونے سے ان دونوں کے سوشل ایشوز پہ کوئ فرق نہیں پڑتا۔ ابھی تک دونوں میں ایک قدر مشترک نظر آتی ھے کہ خدا اقتدار میں جتنا وقت دے اسے غنیمت جانو اور جتنا لوٹ سکتے ھو لوٹو پھر چھٹیوں پہ چلے جا۶و اور دعا کرو کہ خدا پھر موقع دے اور فوج رنگ میں بھنگ نہ ڈالے۔ ذرا ان لوگوں کی جمہوریت ملاحظہ ھو جس میں سرکاری پیسہ پر اولاد کی تشہیر کی جاتی ھے، جس میں نواز شریف کے کم و بیش چوراسی رشتے دار اھم حکومتی عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ میں اس دن شرم سے پانی پانی ھو گیا تھا جس دن کاغذ کے ایک ٹکڑے سے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ بینظیر کی ملکیت سے نکل کر زرداری کی ملکیت ھو گئے۔ کسی مہذب تو کیا شائد پسماندہ افریقی ملکوں میں بھی اس قسم کی چیز کا تصور نہ ھو۔ اعتزاذ احسن، رضا ربانی اور ان جیسے دوسرے لوگ پتہ نہیں اس دن شرم سے ڈوب کیوں نہیں مرے۔ کیا اس طرح کی جمہوریت یہ ھمارے سروں پر لادنا چاہتے ہیں؟
لیکن امید ھے کہ اب حالات بدل رہے ھیں۔ جو لوگ ملک میں یا بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہے ھیں وہ اس سارے کھیل کی حقیقت سمجھ گئے ہیں۔ یہ تعلیم بھی ایک ڈکٹیٹر کا کارنامہ ھے۔ ذرا 1947 سے لے کے 1999 تک کا حساب لگائیے کہ تعلیم پہ کتنا خرچ کیا گیا اور پھر صرف مشرف کے دور کا حساب کر لیجئے۔ میڈیا کی آذادی مشرف کا ایک اور بڑا کارنامہ ھے جس کے اگر چہ بہت سے نقصانات بھی ہیں لیکن بہرحال عوام کو شعور دلانے میں میڈیا کے کردار سے انکار بھی ممکن نہیں۔ لوگ طعنے دیتے ہیں کہ مشرف کے سارے ووٹر صرف فیس بک پر ہیں جن کی تعداد چند لاکھ ھے۔ بالکل صحیح بات ھے لیکن یہ بھی سوچیئے کہ فیس بک پر 99 فیصد نوجوان اور پڑھے لکھے لوگ ہیں نہ کہ بوڑھے اور ان پڑھ۔ جس کا مطلب ھے کہ کم از کم ان لوگوں میں یہ شعور ھے کہ کون ان کا خیر خواہ ھے اور کون ان کا دشمن۔ شائد فوری طور پر وہ وقت نہ آئے کہ جب مشرف، عمران یا طاہرالقادری جیسے لوگوں کو عوام کی ایک بڑی تعداد کی پذیرائ حاصل ہو لیکن یقین جانیئے کہ وہ وقت دور بھی نہیں۔ جب لوگوں کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی جمہوریت کا فریب نظر آ جائے گا اور جب ان کا سیاہ دور ختم ھو جائے گا۔
http://www.zemtv.com/2014/08/20/%D8%AC%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AA%D8%8C-%D8%AC%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AA%D8%8C-%D8%AC%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AA/

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s