کوئی بھی تند و تیز تبصرہ کرنے سے

کوئی بھی تند و تیز تبصرہ کرنے سے پہلے اس تحریر کو پورا پڑھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

جنرل پرویز مشرف کی کوتاہیوں پر تنقید کرنے والے بہت سارے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ بعض معاملات میں اس کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا میڈیا لوگوں کو دکھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ “شیطان کو بھی اسکا حق ضرور دو”
انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ تصویر کے دوںوں رخ دیکھے جائیں تاکہ فیصلہ کرنے میںآسانی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

پرویز مشرف نے یقیناً کچھ کام اچھے کیے ہیں مثللاً اسکے دور میں قومی ادارے مضبوط ہوئے ریلوے اور پی آئی اے کافی لمبے عرصے بعد پہلی بار خسارے سے نکل آئے اور سٹیل مل نے پہلی بار اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ منافع دینا شروع کیا ۔۔۔۔ مہنگائی کافی حد تک کنٹرول میں رہی۔۔۔ ڈالر کو 60 روپے پر روک لیا گیا تھا ۔۔۔ پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل آیا ۔۔۔ موٹر ویز کو تین گنا وسعت دی گئی دیا میر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا(جمہوری حکومت نے اس پر کام کرنے کے بجائے نہایت مضحکہ خیز انداز میں دوبارہ اسکا سنگ بنیاد رکھا) 
گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ آج کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی بلکہ گیس کی شائد تھی ہی نہیں ۔۔ غازی بھروتہ پراجیکٹ کو شروع اور مکمل کیا گیا الخالد ٹینک اور جے ایف تھنڈر طیاروں کی تیاری شروع ہوئی جو بہت بڑی کامیابی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض کافی کام ہوئے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنرل پر بنیادی تنقید اسکی امریکہ کے ساتھ تعلقات اور پالیسی پر کی جاتی ہے کہ امریکہ کو پاکستان پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا اسی کا جائزہ لیتے ہیں کچھ چیزیں بلکل ویسی نہیں تھیں جیسی سمجھی اور بتائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

جب امریکہ نے پاکستان کو حملے کی دھمکی دی کہ یا راستہ دو یا جنگ کرو اس وقت پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی ہرگز ڈیولپ نہیں تھی اور نیوکلیر ہتھیاروں کے لیے کوئی ڈیلوری سسٹم نہیں تھا کم از کم امریکہ کی حد تک نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔ جہازوں کے ذریعے ایٹمی حملہ خام خیالی ہے ۔۔۔ طاقت کا توازن بری طرح پاکستان کے خلاف تھا مثلاً اگر صرف ہوائی جہازوں کی بات کی جائے تو پاکستان کے پاس 700 یا 800 جنگی جہاز تھے جبکہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے پاس 30،000 کے لگ بھگ ۔۔۔۔۔۔ چین اور روس کی تو گویا لاٹری نکل آئی تھی انکی شدید خواہش تھی کہ امریکہ افغانستان کے دلدل میں اترے اسلئے اپنی تاریخ میں پہلی بار چین پاکستان سے اس معاملے میں پیچھے ہٹ گیا تھا ۔۔۔ انڈیا اور اسرائیل امریکہ کو مسلسل پاکستان پر حملے کی دعوت دے رہے تھے اور انڈیا اس حملے میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلا رہا تھا بے شک اسلام آباد پر گھبراہٹ طاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
پاکستان پر ایک ایسی جنگ مسلط ہونی تھی جس میں کروڑوں اموات یقینی تھیں۔۔۔۔۔ یہاں آپ کوئی بھی نعرہ مستانہ لگا سکتے ہیں اور فوراً کہہ دیں گے کہ افغانستان جیسے بے سروسامان ملک نے مزاحمت کی تو ہم کیوں نہیں ۔۔۔۔ !!
افغانستان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا یہانتک کہ پورے افغانستان میں آٹے کی ایک مل تک نہیں ہے کل چھ جنگی ہیلی کاپٹر افغانستان کا کل اثاثہ تھے جن کو اڑانے کا موقع بھی نہیں ملا دوسری طرف پاکستان ایک بہت بڑی آبادی والا اور ڈیولپ ملک جسکے پاس نیوکلیر ہتھیار ہیں بہت سی صنعتیں ہیں اور ایک بہادر اور طاقتور فوج۔۔۔ لیکن جب آپکا مقابلہ اتنی بہت سی طاقتوں سے بیک وقت ہو اور جدید جنگی دور میں میزائل ٹیکنالوجی نہ ہو تو دشمن کو آپکی سرزمین پر اترنے کی ضرورت ہی نہیں ہے انہوں نے صرف اپنے میزائلز اور جنگی ہوائی جہازوں کے ذریعے آپکی اہم تنصیبات خاص کر نیوکلیر پلانٹس موٹر ویز ،صنعتون اور فوجی اڈوں کو تباہ کرنا تھا جبکہ آپکے پاس جواب دینے کے لیے کچھ نہیں تھا آپ زیادہ سے زیادہ انکے کچھ جنگی جہاز گرا لیتے اور کوئی آپشنز نہیں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپکی فوج جتنی بھی بہادر ہو وہ زمین پر کچھ نہ کر پاتی آپکے سب سے جدید جنگی جہاز ٖایف 16 تک امریکی کے حساب سے نہایت پرانے بلکہ متروکہ ہو چکے ہٰیں آپکا واسطہ زمین پر ہرگز کسی فوج سے پڑنے والا نہیں تھا انہوں نے اپنے اڈے پھر بھی افغانستان میں ہی بنانے تھے یہاں نہیں آپکی فوجی طاقت کو تباہ کر کے آپکو انڈیا کے لیے تر نوالہ بنا لیا جاتا ۔۔۔۔!

ان سب عوامل کو دیکھتے ہوئے امریکہ کو راستہ دینے کا فیصلہ ہوا اور ساتھ ہی نہایت پراسرار انداز میں طالبان کے تمام سرکردہ لیڈر غائب ہوگئے (جن میں سے کئی بعد میں آرمی ہی کی گود سے برآمد ہوئے بمع اسامہ بن لادن کے) امریکہ نے افغانستان کے پہاڑوں سے خوب سر ٹکرایا لیکن کچھ ہی عرصے بعد انکے خلاف طالبان کی مزاحمت شروع ہوئی جو چند سالوں میں اتنی شدید ہوگئی کہ امریکہ کی چیخیں نکل گئیں اسکے جنگی اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اس کی معشیت بیٹھنے لگی ہےنتیجے میں امریکہ نے اپنے عوام سے بہت سی سہولیات واپس لے لیں جسکی وجہ سے اسکی کم از کم 26 ریاستیں اس سے الگ ہونے کے لیے تیاری کر رہی ہیں ۔۔۔ امریکہ کا انجام روس جیسا ہونے لگا ہے انشاءاللہ ۔۔۔ جلد ہی افغانستان مزاحمت یا افغان طالبان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ڈھونڈ لیا گیا لیکن اب دیر ہوچکی تھی ۔۔۔۔ امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے بھیانک غلطی کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افغان مزاحمت کو نہ چین سپورٹ کر سکتا تھا نہ تاجکستان اور ازبکستان جو کہ شمالی اتحاد کے ہمدرد دوسرے لفظوں میں امریکہ کے ساتھ ہیں ایران نے صرف دو یا تین سال پہلے اس جہاد کو سپورٹ کرنا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔!!

جنگجوؤں کی ٹریننگ، ہتھیاروں کی فراہمی اور ٹھکانے کسی بھی مزاحمتی تحریک کی بنیادی ضروریات ہوتی ہیں اب اندازہ لگانا مشکل نہٰیں کہ کم از کم دس سال تک یہ سب پاکستان اکیلے کرتا رہا۔۔۔۔۔۔۔ اب اس نقطے کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر پاکستان احمقانہ انداز میں اپنی جنگی طاقت ایک جذباتی فیصلے کی نظر کر دیتا تو افغانستان میں کوئی جہاد نہ ہوپاتا نہ ہی پاکستان اس قابل رہتا کہ انڈیا سے ہی خود کو سنبھال سکے سب کچھ مٹی کا ڈھیر ہو جاتا۔۔۔۔۔۔!!

ہمارے بزرگوں نے بھی مشکل حالات میں حالات کو سمجھتے ہوئے ایسے معاہدے کیے جو اس وقت دشمن کی شرائط کے مطابق ہوتے تھے لیکن بعد میں انکا نتیجہ فتوحات کی صورت میں برآمد ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اسکا فیصلہ جلد ہی ہوجائے گا کہ وہ مشرف کا صحیح فیصلہ تھا یا غلط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

میں نے اوپر لکھا کہ “اب دیر ہوچکی تھی امریکہ کے لیے”۔۔۔۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو راستہ دینے کے ساتھ ہی مشرف نے پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کی تیز ترین میزائل ڈیویلپمنٹ شروع کی ذرا یاد کریں وہ دن جب امریکہ کے حملے کے فوراً بعد پاکستان ہر دوسرے تیسرے دن ایک میزائل تجربہ کر رہا تھا یہانتک کہ ایک دن پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ” ہم انڈیا کے علاوہ بھی بہت سے ملکوں کو ہٹ کر سکتے ہیں” ۔۔۔۔ جس پر امریکہ مٰیں بڑی لے دے ہوئی کہ انڈیا کے علاوہ پاکستان کن ملکوں کو ہٹ کرنے کی بات کر رہا ہے۔۔۔۔!!!

پرویز مشرف نے فرانس کے ساتھ مل کر آگسٹا آبدوز پراجیکٹ شروع کیا اور اسکی تکمیل کی ۔۔۔۔ یہ پراجیکٹ پاکستان کو سیکنڈ سٹرائیک کیپیبلیٹی دیتا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ ان میں ایٹمی میزائل فٹ کیے جا سکتے ہیں جو زیر سمندر 400 میٹر نیچے سے کسی ملک پر ایٹمی حملہ کر سکتے ہٰیں یعنی اگر دشمن آپ پر ایٹمی حملہ کرنے مٰیں پہل کر لے اور خدانخواستہ آپکی ساری زمینی تنصیبات تباہ ہوجائیں تو آپ دشمن پر سمندر سے ایٹمی حملہ کر سکتے ہیں اگر آپکا ایک اس طرح کا آبدوز سمندر میں پھر رہا ہو تو دشمن آپ پر حملہ کرنے کی جراءت نہیں کر سکتا اللہ کے فضل سے اسوقت کم از کم ہمارے تین آگسٹا آبدوز سمندروں میں راج کر رہے ہیں ۔۔۔!!

پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا بلکہ آئی اے ای اے کی ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملاقات کی اپیل بھی مسترد کردی جبکہ پوری دنیا کے سامنے ثابت ہوچکا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایران،لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی معلومات اور سامان دیا ۔۔۔۔۔۔۔ امریکہ یا آئی اے ای اے نے ڈاکٹر خان کو سزا نہیں دینی تھی بلکہ وہ اس سے اہم نوعیت کی معلومات حاصل کرتے جس سے پاکستان سمیت ایران اور شمالی کوریا تک کا ایٹمی پروگرام خطرے میں پڑ جاتا ( جبکہ ہماری ایک جمہوری لیڈر نے بے نظیر بھٹو نے اعلان فرمایا تھا کہ وہ امریکہ کو رسائی دے دیں گی نتائج کی پرواہ کیے بغیر) بہرحال عوام کے سامنے ٹی وی پر معافی کا ایک ٹوپی ڈرامہ ہوا اور بس امریکہ کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔۔۔۔۔!!

مشرف نے لارے دینے کے باوجود اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جس وقت پاکستان زبردست دباؤ میں تھا مشرف نے یہ لارا دیا تھا جس پر اسرائیل خوش تھا کیونکہ اسرائیل کا اگر پاکستان میں اپنا سفارت خانہ بن گیا تو وہ تباہی مچا سکتا ہے لیکن جیسے ہی حالات کچھ نرم ہوئے تو اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

پرویز مشرف نے گوادر پراجیکٹ پر تیز رفتار کام شروع کیا جو امریکہ کی موت ہے اس پراجیکٹ کی وجہ سے چین کو خلیجی ریاستوں تک امریکی دست برد سے محفوظ ایک راستہ مل جائے گا اسکی کافی لمبی تفصیل ہے کہ اس سے امریکہ کو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔ مشرف کے ہٹائے جانے کی ایک بڑی وجہ اسکا چین کے ساتھ ملکر گوادر پراجیکٹ پر کام کرنا بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!!

مشرف دور میں پاکستان نے بہت عرصہ بعد پہلی بار باوجود امریکی مخالفت کے ایران سے اپنے تعلقات ٹھیک کیے اور اسکا نتیجہ پاک ایران انڈیا گیس پائپ لائن کی صورت میں برآمد ہوا جس پر انڈیا کو تقریباً قائل کیا جا چکا تھا اس پائپ لائن کے نیتیجے میں انڈیا کی کم از کم چالیس فیصد ضروریات پوری ہونی تھیں اسکا مطلب انڈیا کے ایک بہت بڑی کمزوری ہمارے ہاتھ میں ہوتی جب بھی وہ ہمارا پانی روکتا ہم یہاں سے انکی گیس بند کر دیتے لیکن بعد میں آنے والی جمہوری حکومت اپنے “جمہوری جھگڑوں” میں پڑ گئی اور وہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا اب جاتے جاتے محض پوائینٹ سکورنگ کے لیے ایک جمہوری حکومت نے اس منصوبے کا اعلان کر دیا اور دوسری جمہوری حکومت نے عربوں اور امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اس منصوبے کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

چاہے آپ پرویز مشرف کو امریکی ایجنٹ کہیں یا جو بھی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور اسکو اعدادشمار سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” اگر امریکہ کو اسکی دو سو سالہ تاریخ میں عملی طور کسی ایک شخص نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا تو وہ پرویز مشرف ہی ہے”

وہ مشرف جس پر سب سے زیادہ لعن طعن اسکی امریکی کے ساتھ دوستی یا امریکا کے بارے میں پالیسیوں پر کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s