قانون کی بالا دستی یا داداگیری

عظمیٰ مان
آج میں ایک سچی کہانی سُنانا چاہتی ہوں جو کہ ہم میں سے بہت سُوں نے یقیناً کبھی نہ کبھی ضرور سُنی ہو گی۔ یہ کہانی ہے برصغیر پاک و ہند کے ایک انقلابی کی۔
یہ کہانی ہے اُن دنوں کی جب تقسیمِ ہند سے قبل برصغیر پاک و ہند میں برطانوی راج تھا، سو عدالتیں اور رائج قانون بھی برٹش۔ عدالت میں مقدمے کی سماعت ختم ہونے پر مدعی کو پھانسی کی سزا سُنائی جاتی ہے اور برطانوی قانون کے مُطابق فیصلے میں لکھا جاتا ہے
‘ یعنی مجرم کو لٹکایا جائے۔To b hanged’
بظاہر وکیل مقدمہ تو ہار جاتا ہے لیکن وہ پُرسکون ہے حتّیٰ کہ سزا پر عملدرآمد کا دن آجاتا ہے اور وہ وکیل اپنے مدعی کے ساتھ موجود ہے، جیسے ہی مجرم کے گلے میں پھندا ڈال کر لیور کھینچا جاتا ہے اور مجرم رسی کے ساتھ ‘لٹک جاتا’ ہے تو اُس کا وکیل کاروائی رُکوا دیتا ہے، وکیل کا موَقف ہے کہ عدالتی حکم نامے کے مُطابق مجرم کو ‘لٹکائے جانے’ کی سزا مکمل ہو چکی ہےاس ذہین وکیل کی اس موَثر دلیل کو عدالت مسترد نہ کر سکی اور یہ وہ واقع تھا جہاں سے برطانوی قانون میں تبدیلی کا آغاز ہوا، برطانوی چارٹر میں تبدیلی کی گئی اور ‘مُستقبل میں کئیے جانے والے فیصلوں’ میں
‘Till Death’ کے ساتھ ‘To be Hanged’
لکھا جانے لگا، یقیناً آپ میں سے بہت سے جانتے ہوں گے کہ یہ ذہین وکیل کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے قائدِ اعظم مُحمد علی جناح تھے۔
یہ برطانوی عدالتوں کی غیر جانبداری اور قانون کی بالا دستی ہی تھی کہ برصغیر کے وکیل کی دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسی تبدیلی کی گئی کہ پوری دُنیا میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی۔
اب اس کیس کے تناظر میں ایک اور کیس کا جائزہ لیتے ہیں ، جی تو وہ کیس ہے ‘پرویز مشرف پرحالیہ غداری کیس’
لیکن اس کیس کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں کُچھ پسِ منظر بیان کرنا چاہتی ہوں تا کہ میرے اُن قارئین کو میرا موَقف سمجھنے میں آسانی ہو جو 1999 میں میری طرح پانچویں یا چھٹی جماعت کے طالب علم تھے۔
12 اکتوبر 1999 کی صبح وزیرِ اعظم نواز شریف بالآخر حتمی فیصلہ کرتےہیں کہ اُن کے دو سالہ مختصردورِ حکومت کے دوران اُن کی طرف سے بر طرف کئیے گئے دو چیف آف آرمی سٹاف کی طرح اب پرویز مُشرف کو بھی جانا ہو گا۔ اس فیصلے کا کارگل جنگ {جس میں ایک فوجی جیت کو کو سیاسی شکست میں تبدیل کیا گیا} ، کارگل وار کے بعد بھارت کی ناراضگی اور نتیجتاً بھارت میں شریف خاندان کے کاروبار پر تالے لگنے اور وزیرِ اعظم کے 10،11 اکتوبر 1999 کے ذاتی دورہَ دُبئی سے کیا واسطہ ہے اس کا ذکر کسی اگلے مضمون میں کیا جائے گا۔
فی الحال بات کرتے ہیں 12 اکتوبر 1999 کو پاکستان میں مبینہ طور پر ‘فوجی ٹیک اوور’ یا میاں نواز شریف کی زبان میں ‘فوج کے جمہوری حکومت پر شبِ خون مارنے کی’۔ تاریخی حقائق جو کہ
Pakistan-Eye of The Storm کی کتاب Owen Bennet Jones
میں بھی درج ہیں کے مطابق سہ پہر ساڑھے چار بجے وزیرِ اعظم نواز شریف ماضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مُشرف کی غیر موجودگی میں اُن کی برطرفی اور جنرل خواجہ ضیاءالدّین {جو کہ 11 اکتوبر 1999 کے دورہَ دُبئی میں نواز شریف کے ہمراہ تھے } کی تعیناتی کا حکم نامہ اس وقت دستخط کرتے ہیں جب جنرل پرویز مُشرف پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 805 میں سوار کولمبو سے پاکستان واپسی کے سفر پر ہیں۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مُشرف کی برطرفی کا سلسلہ یہیں نہیں رُک جاتا بلکہ اس کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نواز شریف خود کراچی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی امین اللہ چوہدری کو فون کر کے ہدایت کرتے ہیں کہ فلائٹ پی کے 805 کو ‘پاکستان کی حدود میں’ کہیں بھی لینڈ کرنے کی اجازت نہ دی جائے آپ کو یاد دہانی کرواتی چلوں کہ یہ پی آئی اے کی وہی فلائٹ ہے جس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مُشرف اور جہاز کے عملے کے علاوہ 180 سویلین بھی سوار تھے۔ ائیر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے فلائٹ پی کے 805 کے پائلٹ کیپٹن ثروت حسین کو اطلاع دی جاتی ہے کہ انھیں پاکستان میں کہیں بھی لینڈ کرنے کی اجازت نہیں ہے تاہم پکستان کی حدود سے باہر’اپنی ذمہ داری پر’ کہیں بھی لینڈ کر سکتے ہیں۔
اسی دورانیے میں جنرل خواجہ ضیاءالدین، قائم مقام آرمی چیف سعید اظفر کو جنرل مشرف کی برطرفی اور اپنی تعیناتی کی اطلاع دیتے ہیں جو کہ آرمی کے لیئے نا قابلِ قبول تھی کیونکہ وزیرِ اعظم بننے کے بعد دو سال کے انتہائی مُختصر عرصے میں نواز شریف کی طرف سے یہ تیسری برطرفی تھی۔ قائم مقام آرمی چیف سعید اظفریہ اطلاع راولپنڈی میں جنرل عزیز اور جنرل محمود کودیتے ہیں۔
اس اثناء میں دوسری طرف پی کے 805 انتہائی خطرناک حد تک کم ایندھن کے ساتھ ہوا میں ہے ، کراچی ائیرپورٹ کے رن وے کے آغاز، درمیان اور اختتام پر فائر انجن رکھ کے ممکنہ لینڈنگ کا راستہ بند کر دیا جاتاہے۔
پی کے 805 کے پائلٹ کیپٹن ثروت حسین جنرل مشرف کو موجودہ صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ دائیں جانب بھارت، بائیں جانب ایران اور جنوب میں سمندر ہے اور ایندھن کی موجودہ مقدار کے ساتھ جہاز کو صرف بھارت میں لینڈ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی ذی اشعور انسان کے لیئے یہ سمجھنا نا ممکن نہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مُشرف جہاز کا رُخ جنوب کی طرف کرنے کی ہدایت کیوں کرتے ہیں۔ دوسری طرف جنرل عثمانی کی قیادت میں فوجی جوان کراچی ائیر پورٹ کا کنٹرول سنبھال کر کراچی ائیر پورٹ کا رَن وے کلئیر کرتے ہیں اور ائیر ٹریفک کنٹرول سے جنرل افتخارکیپٹن ثروت کو کراچی ائیر پورٹ پر لینڈ کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف رن وے کلئِر کروا کر پی کے 805 کو لینڈ کروایا جا رہا تھا تو دوسری طرف جنرل عزیز کی قیادت میں آرمی وزیرِ اعظم ہاوَس کا محاصرہ کر کے ‘ جمہوری حکومت پر شبِ خون’ مار چُکی تھی، قطع نظر کہ اس فوجی ٹیک اوور کے پیچھے کیا وجوہات تھیں یہ یقینی طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی فعل تھا اورتا حال ہے۔ اور قانون کی بالا دستی ‘ذمہ داروں’ کے خلاف کاروائی کی مُتقاضی ہے۔
یہ تھی فوجی ٹیک اوور کی مختصر ترین کہانی جہاں سے ملکی سیاست میں پانچویں بارفوج کی مداخلت کا آغاز ہوتا ہے اور ایک آمر کی قیادت میں ملک اُن تمام بحرانوں میں ڈوب جاتا ہے جسکا ذکر آج میڈیا اور تمام سیاست دانوں کی زبان پر ہے۔
تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ماضی کے ڈکٹیٹروں کے برعکس مشرف کافی جمہوری ڈکٹیٹر ثابت ہوا اور اپنے وعدے کے مطابق 2002 میں انتخابات کروا کر جنرل مشرف نے یہ ثابت بھی کر دیا، تاریخ کہتی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوریت کے پانچ سال بھی صدر مشرف کی قیادت میں پورے ہوئے، پاکستان میں مستعد میڈیا کا سہرا بھی جنرل پرویز مشرف کے سر جاتا ہے، مشرف کے آٹھ سالہ دور میں ڈالر کو ساٹھ روپے کی سطح پر برقرار رکھنا، معشیت کو 74 بلین ڈالر سے 170 بلین ڈالر پر لے جانا، آئی ایم ایف کے قرضوں سے قوم کو نجات دلوانا، بیرونی سرمایہ کاری کو5۔0 بلین ڈالر سے 5۔8 بلین ڈالر کی بلند ترین ریکارڈ سطح پر لے جانا، فی کس آمدنی میں ڈبل اضافہ، ضرورتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتیں متوازن رکھنا، روزگار کے ریکارڈ مواقع فراہم کرنا، جی ڈی پی کو 4۔17 سے 9۔22 کی بلند ترین سطح پر لے جانا، تعلیم کی شرح میں ریکارڈ اضافہ اور تمام تر معاشی اور فلاحی ترقی کے پراجیکٹس بلا شک و شبہ صدر مشرف کی بہترین پرفارمنس کا ثبوت ہیں لیکن یہ سب قوم پر احسان نہیں بلکہ بحثیتِ سربراہِ مملکت ہر حکمران پر فرض ہوتا ہے لیکن آج تک اسے ڈلیور صرف آمر حکمران جنرل مشرف نے کیا۔
کہتے ہیں کہ آمریت یا ڈکٹیرشپ قوموں کے زوال کا باعث بنتی ہے اور پاکستان کو جمہوری ترقی و فلاح کے راستے پر گامزن کرنے کے لئیے سیاست میں فوج کی مداخلت کو روکنا اشد ضروری ہے اس سلسلے میں نئے قانون متعارف کروائے گئے، دانش وروں اور سیاست دانوں کی جانب سے سابق آمر مشرف کا ‘سخت’ ٹرائل کر کے فوج کو حکومت میں مداخلت کرنے سے روکنے کا پیغام بھیجنے جیسی تجاویززیرِغورلائی گئیں۔
اور بلآخر نو منتخب وزیرِ اعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر سابق آمر اور صدر جنرل پرویز مُشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ ایک نئی تاریخ رقم کی جا سکے اور مستقبل میں فوجی مداخلت کو روکا جا سکے پر سوال یہ ہے کہ کیا صرف سابق جمہوری آمر کا ٹرائل جمہوریت کے لئیے راستہ ہموار کر سکے گا، کیا آمریت بذاتِ خود اچھوت ہے یا یہ صرف ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے، کیا نو مُنتخب وزیرِ اعظم {جنھیں بلوچستان میں حکومت سازی کے بعد سیاسی طور پر کافی میچور تصّور کیا جانے لگا تھا} کا یہ فیصلہ سچ میں قانون کی بالا دستی کے لیئے ہے یا ذاتی رنجش کا عکس ہے، کیا سابق آمر حکمران کو انصاف مل سکے گا یا وہ ذاتی عنّاد کی بھینٹ چڑھ جائے گا، اگر نہیں تو کیا فوج سابق حکمران اور آرمی چیف کے غیر مُنصفانہ ٹرائل پر اسی طرح خاموش رہے گی اور اگر نہیں تو کیا پاکستان پھر سے ایک فوجی دور میں دھکیل دیا جائے گا ، کیا امریکہ جو 2014 میں افغانستان سے اپنی افواج کا انخلاء چاہتا ہے ،غیرمستحکم اتحادی پاکستان کا متحمل ہو سکتا ہے؟
اگر حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان سوالات کا جواب نفی میں ملتا ہے کیونکہ پاکستان میں مارشل لاء کے لیئے جواز ہمیشہ جمہوری حکومتوں نے خود پیش کیا، جنرل مشرف کے ساتھ عدالتی عناد اور دُشمنی کی داستان بھی کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں جس کا آغاز 2013 کے انتخابات میں چاروں حلقوں سے جنرل مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر کے کیا گیا جبکہ کم و بیش اسی قسم کے مقدمات میں ملوث کئی امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی، اور پھر ججز نظر بندی کیس میں قابلِ ضمانت دفعہ 344 میں جسٹس شوکت عزیز{جو کہ2002 کے انتخابات میں متحدہ مجلسِ عمل کے امیدوار تھے اور لال مسجد کیس میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ کے وکیل بھی رہ چُکے ہیں} نےجنرل مشرف کی ضمانت مسترد کر کے اس ذاتی عناد کی تصدیق کی۔ جنرل مشرف کی لارجر بینچ کی درخواست اور 3نومبر 2007 کے اقدامات کے نتیجے میں متاثر ہونے والے ججز کو کیس کی سماعت سے دور رکھنے کی اپیل مسترد کیئے جانا عدلیہ کی جانبداری کا ایک اور ثبوت ہے۔ آرٹیکل 6 کے تحت ‘صرف’ جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانا بھی قانون کی بالا دستی کی بجائےصرف فوج کو پیغام بھیجنے اور ذاتی رنجش کے زُمرے میں آتا ہے، کیونکہ اپنی صیحح روح میں آرٹیکل 6 اس بات کا مُتقاضی ہے کہ جنرل مشرف اور اُن کے تمام سیاسی اتحادی جو کہ اس وقت کابینہ کا حصہ تھے سب پرمقدمہ چلایا جائے جن میں سے 100 کے لگ بھگ افراد آج مسلم لیگ نوازکے ایم این اے ہیں۔ مزیدِ براں 1999 سے جنرل مشرف کے اقدامات کو قانونی قرار دینے والے تمام ججز بشمول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سب کو کٹہرے میں لایا جائے۔
آپ کو یقیناً یہ جان کر حیرت ہو گی کہ عدلیہ کی جانبداری کی انتہا یہ ہے کہ جس قانون کے تحت جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے اس کو 31 دسمبر 2009 کے فیصلے سے اخذ کیا گیا ہے جس کا اطلاق اصولی طور پر مُستقبل کے کیسز پر ہوتا ہے اور یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی بناء پر میں نے اس مضمون کے آغاز میں قائدِ اعظم کے تاریخی کیس کا حوالہ دیا تھا، اگر اُس وقت برطانوی عدالتیں جانبداری کا مظاہرہ کرتیں اورقانون میں ترمیم کے بعد محمد علی جناح کے موَکل کو پھانسی دے دی جاتی تو کیا کوئی تاریخ رقم ہوتی ؟ لیکن پھر بھی اگر سوال قانون کی بالا دستی اور جمہوریت کے استحکام کا ہے تو ماضی کا ایک اور کیس کھولا جائے اور 28 نومبر 1997 کوچیف جسٹس سجّاد علی شاہ اور سپریم کورٹ پر حملہ {جس کی ویڈیو فوٹیج بھی موجود ہے} کرنے والے اُس وقت کے مُنتخب جمہوری وزیرِ اعظم نواز شریف کو بھی کٹہرے میں لایا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیئے جائیں۔
میرے نزدیک تاریخ عدالتیں اور حکمران نہیں بلکہ عوام لکھا کرتے ہیں جیسا کہ منتخب جمہوری برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر کی وفات پر ‘برطانوی عوام’ نے لکھی۔
میں نہ تو ڈکٹیٹرشپ کے حق میں ہوں نہ جمہوریت کے خلاف، کیونکہ میرے نزدیک یہ ایک مائنڈ سیٹ اپ کا نام ہے اور حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ ان ‘ ٹائٹلز’ سے بالا تر ہو کر لینا چاہیئے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کیا فیصلہ کرتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ عوامی فیصلے ہی قوموں کا مُستقبل متعین کرتے ہیں

https://www.facebook.com/PakistanFirstOfficial/posts/207852926034190

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s