چترال: پرویز مشرف کا حامی نظر آیا

بازار میں لوگوں سے بات کی تو ایسا لگا کہ چترال پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں سابق صدر پرویز مشرف آج بھی دیگر سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مقبول ہیں۔ ہوٹل کے بیرے اور مینیجر سے لے کر عام دوکاندار اور پڑھے لکھے لوگوں تک جس سے بھی بات ہوئی وہ پرویز مشرف کا حامی نظر آیا۔

ایڈووکیٹ عبدالولی نے اس کی ایک بڑی وجہ لواری سرنگ کا منصوبہ بتائی۔’چترال کے لوگ ہر سال موسم سرما میں چھ ماہ تک ملک سے کٹ جاتے ہیں ۔کیونکہ برفباری کی وجہ سے راستے بند ہوجاتے ہیں اور ہم مجبور ہوجاتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اربوں روپوں کی لاگت سے پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں چترال کو دیر سے زمینی راستے سے ملانے کے لیے تقریباً آٹھ کلومیٹر سے بھی زیادہ پہاڑ کھود کر سرنگ بنائی۔ ان کے مطابق لواری ٹنل پر کوریا کی کمپنی کام کر رہی ہے اور کھدائی مکمل ہونے کے بعد اب صرف اُسے ہوادار بنانے اور چھوٹے موٹے کام باقی ہیں۔

’لواری ٹنل چترال کے لوگوں کا صدیوں پرانا خواب تھا جو پرویز مشرف نے پورا کردیا اور یہ منصوبہ ہماری زندگی میں انقلاب لائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف اگر چترال سے انتخاب لڑیں تو آسانی سے جیت سکتے ہیں۔‘

چترال میں معلوم ہوا کہ ایک مقامی لکڑ ہارے سے پرویز مشرف کی دوستی ہے۔ احمد خان نامی اس شخص سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پرویز مشرف سے اپنے عشق کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ان کی تاحال پرویز مشرف سے چار ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اپنی ملاقاتوں کی تصویریں بھی دکھائیں۔

احمد خان نے بتایا کہ انہیں پرویز مشرف ایک سچے، کھرے اور بہادر انسان لگتے ہیں۔ جب پرویز مشرف پر حملہ ہوا تو وہ بہت روئے اور جب معلوم ہوا کہ وہ بچ گئے ہیں تو انہوں نے چترال شہر کے بازار میں ہر آنے جانے والے شخص کو مٹھائی کھلائی۔ ’میں غریب آدمی ہوں لکڑیاں بیچ کر پیٹ پالتا ہوں لیکن اُس دن میں نے ہزاروں روپے خرچ کردیے۔‘

چوالیس سالہ احمد خان بتاتے ہیں کہ پرویز مشرف نے لواری سرنگ بنا کر چترالی عوام کو خرید لیا ہے اور چترالی اپنے محسن کو کبھی نہیں بھولتے۔ انہوں نے بتایا کہ ’پرویز مشرف نے جب ریفرنڈم کرایا تو میں نے اپنے گھر میں پولنگ سٹیشن بنایا۔ میرے دو قریبی عزیزوں نے پرویز مشرف کے خلاف ووٹ دیے اور میں آج تک ان سے بات نہیں کرتا۔‘

احمد خان نے بتایا کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی لواری سرنگ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن انہیں پھر موقع نہیں مل پایا۔ ان کے بقول بعد میں دو بار پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی لیکن اس منصوبے پر کام شروع نہیں کیا۔

چترال شہر میں احمد خان ’پرویز مشرف کے متوالے‘ کے طور پر مشہور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف کی جانب سے سیاست میں آنے کے فیصلے پر وہ بہت خوش ہیں اور اگر وہ چترال سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑیں تو وہ اتنے ووٹ لیں گے کہ ان کے مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی۔

’مجھے پورا یقین ہے کہ آئندہ ملاقات میں، ان سے اسرار کروں گا کہ وہ چترال سے آئندہ انتخاب لڑیں۔انہیں خرچہ بھی نہیں کرنا پڑے گا اور چترال کے لوگ خود ان کی انتخابی مہم چلائیں گے۔‘

احمد خان کا شکریہ ادا کیا اور ان سے اجازت لے کر واپس اسلام آباد کے لیے چترال کے ہوائی اڈے پہنچے۔ چترال کا ہوائی اڈہ دریائے چترال کے کنارے پر تنگ وادی میں واقع ہے۔ چترال کی خوبصورتی میں اس وقت مزید اضافہ ہوجاتا ہے جب فضا سے اس کا منظر دیکھیں۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090525_chitral_final_piece_zee.shtml

Advertisements

3 thoughts on “چترال: پرویز مشرف کا حامی نظر آیا

  1. What an excellent report. Salute to graceful people of Chitral, who are not Thankless at all like the rest of the nation. I proud on the wood cutter friend of General Musharraf. Salute to former President on winning hearts and minds of the people of Chitral…

  2. I realy love mushraf. A True national hero. I solute to mushraf. May I meet him in my life? He was a honest man. ALLAH UNHAY SEHAT AUR TANDRUSTI DAY.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s